Projekt Queer Refugees Deutschland

تجاویز

جرمنی میں ہم جنس پسند عورتوں، ہم جنس پسند مردوں، ایبلنگی، ٹرانس+ اور بین صنفی+ (LGBTI) پناہ گزینوں کے لئے رہنماء اصول

 

1. جرمنی میں LGBTI پناہ گزینوں کا تحفظ

1.1 جرمنی میں LGBTI پناہ گزینوں کو کب پناہ دی جاتی ہے؟

ہم جنس پسند عورتیں، ہم جنس پسند مرد، ایبلنگی، ٹرانس+ اور بین صنفی+ (LGBTI) افراد جن کو ایذا دی جا رہی ہو جرمنی میں پناہ گزینی کے مستحق ہیں۔  ایذا رسانی کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کے آبائی ملک میں جنسی رجحان اور/ یا صنفی شناخت کے سبب  انتہائی تشدد، موت، قید یا دیگر اقسام کے غیر انسانی سلوک کی دھمکی دی جا رہی ہو۔ جرمنی میں LGBTI ہونا کوئی ممنوعہ چیز نہیں ہے، اور جرمنی کے لوگ اس کے بارے میں کھل کر بات چیت کرسکتے ہیں

1.2 کب ریاستی ایذا رسانی پناہ گزینی کی بنیاد بنتی ہے؟

ایذا رسانی یا امتیازی سلوک کی کاروائیوں کی نوعیت یا تعداد کی شدت کو اتنا زیادہ ہونا چاہیئے کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوں۔ یہ حقیقت کہ ہم جنس پسندی کی سرگرمی قانون کے مطابق واجب تعزیر ہے خود بخود ایذا رسانی کا فعل شمار نہیں ہوتا۔ صرف اس طرح کی سزا کو حقیقی طور پر نافذ کرنے کو ایذا رسانی کا فعل سمجھا جاتا ہے۔

1.3 خاندان کی جانب سے ایذا رسانی (غیر ریاستی ایذا رسانی) کب پناہ گزینی کے لئے بنیاد شمار کی جاتی ہے؟

اگر ایذآ دہندہ کسی ریاستی ادارے (پولیس، عدلیہ وغیرہ) کے بجائے ایک غیر ریاستی ادارہ (ملیشیا، خاندان وغیرہ) ہے، تو ایذا رسانی صرف تب پناہ گزینی کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے اگر ثبوت فراہم کیا جاتا ہے کہ ریاست تحفظ فراہم نہیں کر سکتی یا نہیں کرے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ خاندان کے افراد کی جانب سے تشدد اور تشدد کی دھمکیاں صرف تب کسی مظلوم شخص کو پناہ گزینی کا مستحق بناتی ہیں اگر یہ بات واضح ہو کہ اس کو پولیس کی جانب سے یا ملک کے کسی اور حصے میں منتقل ہونے سے تحفظ نہیں ملے گا۔

1.4 پناہ گزینی کے طریقہ کار کے دوران میں کہاں رہوں گا/گی؟

پناہ گزینی کے لئے درخواست دینے کے بعد، پناہ گزین کو ایک وفاقی ریاست کو تفویض کیا جاتا ہے۔ پناہ گزینی کے طریقہ کار کے دوران، پناہ گزینوں کو ابتدائی طور پر اجتماعی رہائش گاہ میں رکھا جاتا ہے۔ ایک قاعدہ کے طور پر، پناہ گزینوں کو اپنی پناہ گزینی کی درخواست کے منظور ہونے کا انتظار کرنا ہو گا اس سے قبل کہ ان کو کوئی بلدیہ تفویض کی جا سکے، کسی نجی اپارٹمنٹ میں منتقل ہو سکیں، انضمام کورس میں حصہ لیں اور کام شروع کر سکیں۔ LGBTI افراد کے لئے بسا اوقات خصوصی رہائش دستیاب ہوتی ہے۔

 

2. پناہ گزینی کا طریقہ کار

2.1 پناہ گزینی کا طریقہ کار کیسے کام کرتا ہے؟

جرمنی میں آنے کے بعد ہی پناہ گزینی کے لئے درخواستیں دی جا سکتی ہیں۔ پناہ گزینی کے طریقہ کار میں عام طور پر فیڈرل آفس برائے ہجرت اور پناہ گزین (BAMF) کی جانب سے دو سماعتیں شامل ہوتی ہیں۔ پہلی سماعت کا بنیادی طور پر مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ آپ کے کیس کے بارے میں کونسی ڈبلن ریاست ذمہ دار ہے۔ ڈبلن ریاستیں تمام یورپی یونین کے رکن ممالک ہیں اور اس وقت آئس لینڈ، ناروے، لیختینستائناور سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہیں۔ پناہ گزینی حاصل کرنے کے لئے آپکی وجوہات کو دوسری سماعت تک نمٹایا نہیں جاتا۔ کبھی کبھار،  دونوں سماعتیں ایک ہی دن منعقد ہو سکتی ہیں۔

2.2 مجھے سماعتوں سے پہلے کیا کرنا چاہیئے؟

سماعتوں کے لئے تیاری کرتے وقت، LGBTI پناہ گزینوں کے لئے پناہ گزینوں کے مشیروں اور رابطہ تنظیموں کی حمایت حاصل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک اچھا خیال ہے کہ تمام ایذا رسانی کی کاروائیوں کو حروف تہجی کی ترتیب سے لکھ لیا جائے، شہادت اکٹھی کی جائے اور اپنے ساتھ پیش آنے والے تجربات کے بارے میں گفتگو کرنے کی مشق کی جائے۔ اس بات کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ LGBTI امور کے ساتھ شناسا انٹرویور کے ساتھ ملاقات کی درخواست کے لئے جتنا جلدی ممکن ہو ای میل بھیجی جائے اور اتھارٹی کو مطلع کیا جائے کہ آپ کے ہمراہ کوئی ہو گا۔

2.3 پہلی سماعت کے دوران کیا ہوتا ہے؟ (ڈبلن نظام)

پہلی سماعت بنیادی طور پر پناہ گزین کے اپنے بارے، اس کا خاندان کہاں رہ رہا ہے، اور فرار ہونے کا راستہ کون سا لیا گیا ہے کے بارے میں سوالات پرمشتمل ہوتی ہے۔ عام طور پر، پناہ گزینی کے طریقہ کار کی ذمہ دار وہ ڈبلن ریاست ہوتی ہے جس نے انٹری ویزا دیا۔ اگرپناہ گزین کسی ویزا کے بغیر ملک میں داخل ہوتا ہے تو، اس طریقہ کار کا ذمہ دار بنیادی طور پر وہ ملک ہوتا ہے جس میں پناہ گزین پہلے داخل ہوا۔ ایسی صورتوں میں، پناہ گزین کو عام طور پر اس ملک میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

2.4 دوسری سماعت کے دوران کیا ہوتا ہے؟ (پناہ طلب کرنے کی وجوہات)

دوسری سماعت ان وجوہات پر مرکوز ہوتی ہے کہ پناہ گزین اپنے ملک سے کیوں فرار ہوا۔ ان وجوہات کو تخصیص کے ساتھ، واضح طور پر اور تفصیل کے ساتھ، کوئی چیز چھوڑ بغیر یا کسی متضاد بیان کے بغیر بیان کیا جانا چاہیئے۔ BAMF عموما سماعت کے دوران بولی گئی جھوٹی باتوں کی نشاندہی کر لیتا ہے اور اس کی وجہ سے درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد، بیان کا ترجمہ کیا جاتا ہے اور دستخط کیے جانے پر مستند تصور کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے پناہ گزین کو سماعت کے دوران بیان میں ذکر کردہ تمام امور پر اصرار کرنا چاہئے۔

 

3. پناہ گزینی کی اقسام اور مقدمہ کرنے کے امکانات

3.1 بین الاقوامی تحفظ کی کون سی اقسام موجود ہیں؟

کلاسیک پناہ گزینی (ابتدائی طور پر 3 سال کی مدت کے لئے) بنیادی طور پر سیاسی ایذا رسانی کا شکار ہونے والے افراد کو دی جاتی ہے جو جرمنی میں براہ راست پروازوں کے ذریعے داخل ہوئے۔ اس کے برعکس، تشدد کے شکار افراد جو یورپی یونین کی کسی اور ریاست کے ذریعہ جرمنی میں داخل ہوتے ہیں ان کومخصوص حالات کے تحت مہاجر کی حیثیت (یہ بھی 3 سالوں کے لئے) دی جاتی ہے۔ خانہ جنگی سے فرار ہونے والے افراد کوعام طور پر ضمنی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے (ابتدائی طور پر 1 سال کے لئے)۔ تمام حالات میں اس حیثیت میں توسیع کی جائیگی اگر پناہ گزینی کے لئے مزید وجوہات موجود ہوتی ہیں۔

3.2 خانہ جنگی کے شکار ممالک سے LBGTI مہاجرین کو کس بات پر غور کرنا چاہیئے؟

جنسی رجحان اور/ یا صنفی شناخت کے سبب ایذا رسانی اور امتیازی سلوک کی کاروائیوں کو بھی بیان کرنا چاہیئے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو انہیں تین سالوں کے لئے تحفظ شدہ حیثیت دی جاسکتی ہے، خانہ جنگی کی وجہ کے علاوہ۔ اس وجوہات کو بعد میں شامل کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

3.3 اگر میری درخواست مسترد کردی جائے تو میں کیا کر سکتا/ سکتی ہوں؟

کسی منفی فیصلے کا لازمی مطلب ملک بدری نہیں ہے۔ پناہ گزینوں کو وکیل کے ذریعے منفی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگرچہ اپیل ناکام ہو جاتی ہے، تب بھی کئی وجوہات موجود ہیں۔ کیوںکہ اکثر اس کا مطلب ملک بدر کیا جانا نہیں ہوتا۔ بہت سی صورتوں میں، اس وجہ سے یہ معلوم کرنا ایک اچھا خیال ہے کہ آیا ملک بدر کیے جانے میں کوئی رکاوٹیں موجود ہیں اگرچہ پناہ گزینی کی درخواست مسترد کردی گئی ہو۔

3.4 تیز رفتار طریقہ کار کیا ہیں؟

تیز رفتار طریقہ کار کے دوران، ابتدائی طور پر یہ فرض کیا جاتا ہے کہ پناہ گزینی کے لئے کوئی وجوہات نہیں ہیں، اور ثبوت کی ذمہ داری کو واپس لے لیا جاتا ہے۔ اس کو نام نہاد محفوظ آبائی ممالک (یورپی یونین کی تمام ریاستیں اوراس وقت بالقان ریاستیں، گھانا، اور سینگال) سے پناہ گزینوں پر لاگو کیا جاتا ہے۔ ایسے پناہ گزین جنہوں نے حکام کو اپنی شناخت کے بارے میں گمراہ کیا ہے یا جنہوں نے اپنی دستاویزات کو تباہ کر دیا ہو ان کو تیز رفتار طریقہ کار سے گزارا جا سکتا ہے۔

 

4. LGBTI کے لئے مخصوص پہلو

4.1 مجھے اپنی صنفی شناخت اور جنسی رجحان کے بارے میں کیا معلومات فراہم کرنی ہیں؟

یہ ضروری ہے کہ LGBTI پناہ گزین اپنے پناہ گزینی کے طریقہ کار کے دوران اپنا جنسی رجحان اور/ یا صنفی شناخت ظاہر کریں۔ اس کے لئے، انہیں اپنی نجی زندگی، اپنے شخصی دریافت کے عمل اور اپنے سابقہ رومانی/جنسی تعلقات کے بارے میں بھی سوالات کا جواب دینا چاہیئے۔ تاہم، ان کے جنسی افعال کے بارے میں سوال ممنوع ہیں۔ جنسی مواد کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز کو ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا ہے۔

4.2 اگر میں نے پناہ گزینی کے طریقہ کار کے دوران اپنی صنفی شناخت یا جنسی رجحان کے متعلق بیان نہیں کیا تو میں کیا کر سکتا ہوں؟

اگر پناہ گزینی کی درخواست کا نتیجہ منفی ہوتا ہے، توعام طور پر آبائی ملک کو چھوڑنے کے لئے اضافی وجوہات مہیا کرنے کے لئے ایک اور سماعت کا موقع دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے، شروع ہی سے ملک سے فرار ہونے کے لئے اپنے جنسی رجحان اور/ یا صنفی شناخت کی تخصیص کو وجہ بنانا ضروری ہوتا ہے۔ LGBTI لوگ جو خوف یا شرم کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے اور جن کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے تو وہ وکیل کے ذریعہ ایک فالو-اپ درخواست دائر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

4.3 کیا مجھے پناہ گزینی نہیں دی جائے گی اگر میں اپنے  آبائی ملک میں کھلے طور پر LGBTI کے طور پرزندگی  نہیں گزاری؟

LGBTI پناہ گزین جو اپنے آبائی ملک میں کھلے طور پر زندگی نہیں گزارتے رہے اور اس وجہ سے ایذا رسانی کا شکار ہوئے بغیر وہاں سے نکلے ان کو صرف تب پناہ گزینی دی جائے گی اگر انہوں نے ایسا ایذا رسانی کے خوف سے کیا ہو۔ اگر انہوں نے اپنی جنسی رجحان اور/ یا صنفی شناخت کو اپنا وقار قائم رکھنے اور اپنے خاندان کی عزت کو بچانے کے لئے کیا، تو یہ پناہ گزینی کے لئے بنیاد نہیں بن سکتی۔ اس طرح کی صورتوں میں، اکثر یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح زندہ رہ سکتے ہیں اور ان پر تشدد کا امکان نہیں ہے۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے جنسی رجحان کے متعلق بات نہیں کر سکتے۔

4.4 کیا LGBTI کے خلاف امتیازی سلوک پناہ گزینی کے لئے بنیاد ہے؟

معاشرے کی اکثریت کی جانب سے توہین، مجرد دھمکیاں اور ہم جنس پرسندوں اور ٹرانس+ کے خلاف نفرت کے رویے بذات خود پناہ گزینی کے لئے بنیاد نہیں بنتے۔ تاہم، اگر پناہ گزین کے آبائی ملک میں امتیازی سلوک اتنا زیادہ شدید ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوتا ہے تو یہ پناہ گزینی کی بنیاد ضرور بنتا ہے۔ یہ صورتحال تعلیمی یا طبی نظام یا ملازمت کے مواقع سے اخراج کی صورت میں بھی لاگو ہوتا ہے۔

 

یہاں آپ کو گائیڈ کا  طویل ورژن ملے گا

Scroll Up