Projekt Queer Refugees Deutschland

امتیازی سلوک اور تعصب سے کیسے نمٹا جاۓ؟

بریمن میں LGBTI پناہ گزینوں کے سرگرم کارکنوں کے تیسرے قومی حلفے کا اجلاس
تیسری دفعہ، پورے جرمنی سے پناہ گزین LGBTI کارکنوں نے اپنے حلقے کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے ملاقات کی۔ اس دفعہ کا اجلاس بریمن میں Rat und Tat e.V. کے تعاون سے ایک ورکشاپ کی شکل میں ہوا۔

جرمنی میں LGBTI پناہ گزینوں کی طرف سے تیسری ورکشاپ کا مضمون ہر روز کا امتیازی سلوک اور تعصب تھا جس کا LGBTI پناہ گزینوں کو جرمنی میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تعصب سے نمٹنا ہر LGBTI شخص کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو اپنے جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی وجہ سے جرمنی منتقل ہوئے ہیں ۔ ورکشاپ کا مقصد ایسے اداروں اور ایجنسیوں کی شناخت  کرنا  تھا جو جرمنی میں لوگوں  کو مدد پیش کرتے ہیں جن کے ساتھ  کام کی جگہ میں اور گھر پر امتیازی سلوک  روا رکھا جاتا ہے  یا  انہیں  روزمرہ کی زندگی میں اپنے جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی وجہ سے  تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پندرہ شرکاء اس ورکشاپ میں شرکت کرنے کے لیے نو صوبوں اوردس ممالک سے آئے تھے. شرکاء نے اپنے وفاقی ریاستوں میں مختلف تنظیموں کی شناخت کی ، جن میں ان LGBTI پناہ گزینوں کو مدد پیش کی جاتی ہے جن کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاۓ یا تعصب کا نشانہ بنایا جاۓ۔  پولیس کے کردار اور کام کے بارے میں بھی بحث ہوئی۔ اس ورکشاپ میں اٹھائے جانے والے اہم موضوعات میں سے ایک موضوع  AnKer سینٹروں میں LGBTI  پناہ گزینوں کی حفاظت تھی۔  حکومت کس طرح AnKer مراکز میں  LGBTI پناہ گزینوں پر دیگر پناہ گزینوں کی  طرف سے حملے کو روک سکتی ہے؟

 

Scroll Up