Projekt Queer Refugees Deutschland

خواجہ سرا پناہ گزینوں کے لیے خصوصی نئی معلومات

اسائلم کے عمل کے دوران اور جب رہائشی جگہوں کی بات آئے، تو خواجہ سراؤں کو کچھ مخصوص مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بہت سے خواجہ سرا پناہ گزین جرمنی میں منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ کچھ نے اپنے آبائی ممالک میں یا ان کے فرار کے دوران پہلے سے ہی اس کی ذمہ داری لینا شروع کر دی ہے، باقی جرمنی کا رخ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے، وہ قابل اعتماد معلومات کی تلاش میں ہیں۔ ویب سائٹ Queer Refugees Deutschland اب خواجہ سرا پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے لیے رہنمائی کی پیشکش کرتی ہے۔ تاہم، در اصل، اُن خواجہ سراؤں کے لیے کہ جو اسائلم کے عمل سے گزر رہے ہیں، اکثروبیشتر یہ انتہائی دشوار ہوتا ہے کہ وہ اُن مخصوص طبی خدمات کو حاصل کر پائیں کہ جن کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ برلن کی مشاورتی ایجنسی Schwulenberatung Berlin نے ایک متعلقہ مہارتِ فن کی اشاعت کی ہے، جو اسائلم کے عمل سے گزرنے والے خواجہ سراؤں کی مخصوص قانونی صورتحال پر توجہ دیتی ہے۔

حالیہ برسوں میں، LGBTI پناہ گزینوں کا مسئلہ نمایاں طور پر اجاگر ہوا اور اسے اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، مشاورتی مواد تشکیل دینے میں خواجہ سراؤں کی مخصوص ضروریات پر مشاورت کرنے کے لیے کم سے کم غور کیا گیا ہے۔ نتیجے کے طور پر،کولون کے LGBTI مشاورتی دفترrubicon اور ٹرانس ایسوسی ایشن Netzwerk Geschlechtliche Vielfalt Trans* NRW نے ایک ہدایت نامہ تیار کیا ہے جس کا ہدف بالخصوص خواجہ سرا پناہ گزین ہیں۔ یہ ہدایت نامہ اصطلاح کی وضاحت کرتا ہے، جرمنی میں منتقلی کیلئےاٹھائے جانے والے اقدامات پر معلومات فراہم کرتا ہے اور خواجہ سرا تنظیموں و کمیونٹی کے لئے مددگار روابط کی فہرست مرتب کرتا ہے۔ LSVD منصوبے Queer Refugees Deutschland نے نقل کو حسب حال تیار نیز ترجمہ کیا ہے، لہذا یہ مواد اب انکی ویب سائٹ پر ٹرانس+ سیکشن کے ذیل میں نو زبانوں میں دسیتاب ہے۔

اسائلم کے قابلِ اعتماد لائحہ عمل نیز رہائشی جگہوں کی معلومات کے علاوہ، بہت سے خواجہ سراؤں کو ان کی جنسی وضع کے مختلف ہونے سے متعلقہ طبی خدمات درکار ہیں۔ تاہم، جبکہ اسائلم کی کارروائیاں جاری ہیں، انہیں طبی خدمات تک صرف محدود رسائی حاصل ہوتی ہے؛ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن طبی خدمات کی انہیں ضرورت ہے وہ اسائلم کی وجہ سے مسدود ہوتی ہیں۔ Schwulenberatung Berlin کی جانب سے حالیہ شائع کردہ ماہر تشخیص Zugang zu trans*spezifischen medizinischen Leistungen für Personen im Asylverfahren کا مقصد قانونی نقطہ نظر سے خواجہ سراؤں کو ملنے والی طبی خدمات کا استحقاق ہے۔ مصنفین ڈاکٹر Lena Kreck اور Maya Markwald نے قانونی جواز پیش کیے ہیں کہ آیا کیا وجہ ہے کہ جب اسائلم زیرِ عمل ہو تو خواجہ سراؤں کو اپنی مختلف جنسی وضع کے باعث پہلے سے ہی طبی خدمات تک مکمل رسائی کا حق حاصل ہے۔

Scroll Up