Projekt Queer Refugees Deutschland

ججوں اور وکلاء کے ساتھ چارسرگرم "ہم جنس پسند پناہ گزینِ جرمنی” کا مباحثہ

ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی مہاجرین کی اسائلم کی درخواستیں جرمنی میں سرکاری ایجنسیوں کے لئے متعدد بار خاص چیلنجز کا باعث بنی ہیں؛ خاص طور پر وفاقی مہاجرین اور پناہ گزینوں کی ایجنسی (BAMF)۔ BAMF کے بہت سے نوٹیفیکیشن عدالتوں نے روک دئیے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے، کیتھولک سماجی Akadamie Franz HItze Haus نے LSVD اور چار مہاجر کارکنوں کو مدعو کیا کہ وہ ججوں اور وکلاء کے ساتھ اسائلم کے دوران ہم جنس پسندی اورایبلنگی افراد سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کریں۔ اس تقریب کی میزبانی 16 مارچ 2021ء کو ایک آن لائن سیمینار میں کیتھولک آفس میں، جرمن بشپ کے کمیشن اور کاریتاس تنظیم کے قریبی تعاون سے کی گئی۔

پیٹرک ڈور (LSVD Bundesvorstand) اور فلپ براؤن (سابق ILGA-شریک سیکرٹری جنرل) نے تقریب کا تعارف کرایا اور 41 منسلکہ ججوں، وکلاء اور BAMF کے عملے کے ارکان کے ساتھ متعدد قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا، جس نے ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی درخواست دہندگان کو بھیجے گئے منفی نوٹیفیکشن کے خلاف عدالت کی کارروائی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ چار سرگرم ہم جنس پسند ارکان، جو سب کے سب جرمنی میں مہاجرین کے وسیع نیٹ ورک LSVD پراجیکٹ Queer Refugees Deutschland کے ارکان ہیں، نے رپورٹوں کے ہمراہ اپنے آبائی ممالک اور اسائلم کے عمل کے دوران ہونے والے تجربات سے متعلق قانونی مباحثہ کیا:

اس تناظر میں، مصر سے احمد خالد* نے اپنی سماعت کے دوران نہایت تفصیل کے ساتھ ان مسائل کو بیان کیا جس کا اسے سامنا کرنا پڑا، خاص طور پرانتہائی ھوموفوبک(ہم جنس پسندوں سے انتہائی نفرت رکھنے والے) ایک ماہر لسانیات کے ساتھ۔ انہوں نے LGBTI کمیونٹی کے ساتھ مصر کی حکومت کی منظم ایذا رسانی کا بھی ذکر کیا۔ بظاہر، ستمبر 2017ء میں لبنانی بینڈ مشروع‘لیلیٰ کے کنسرٹ کے دوران اسی جگہ پر ایک اور گھمبیر صورتحال کا بھی مشاہدہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت ہم جنس پسند کمیونٹی کے خلاف منظم منصوبے بنا رہی ہے۔

میری پیٹروسیان نے اپنے آبائی ملک میں ہم جنس پسندوں سے شدت سے سرائیت شدہ ھوموفوبک رویوں کے بارے میں بات کی۔ جس کے نتیجے میں ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد مبینہ طور پر کسی بھی تحفظ کے بغیر وسیع تر ھوموفوبک تشدد کی زد میں ہیں۔ اسی طرح، قانون نافذ کرنے والے بھی عموماً ھومو فوبک ہیں، لہذا انھیں باقاعدہ طور پر کوئی تحفظ فراہم نہیں ہوتا۔ اس کے تجربے کے مطابق، BAMF دراصل ایک نسبتا چھوٹے ملک میں ان سماجی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا، جہاں ہر کوئی ہر کسی کو جانتا ہے اور جہاں چھپ کر جیٓنا عملی طور پر ناممکن ہے۔

ایران سے پامير جيحان* نے ایران میں ہم جنس پسند افراد پر ایذا رسانی کو بیان کیا، جہاں مردوں کے درمیان جنسی ملاپ اب بھی سزائے موت کا موجب بن سکتا ہے۔ نہ صرف متعدد ٹرانسجینڈر افراد جو کے نہیں چاہتے تھے کہ انھیں آپریشن سے مشروط سرجری کروانا پڑی ہے بلکہ ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد بھی ہیں کہ جنھیں زبردستی سرجری کروانا پڑی ہے اورانھیں اس طرح کی سرجری سے مسخ کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے وہ اور ان کے ترکی شوہرکو آگے چل کر جرمنی میں بھی شدید مسائل سہنا پڑے کیونکہ وہ ایک شادی شدہ ہم جنس پسند جوڑے کے طور پر قبول کیئے جائیں اور اس کی وجہ سے وہ تحفظ کے حقدار ہیں۔

دوسری طرف، LGBTI کے کارکن باكوس ماجري نے اسائلم کے عمل کے مثبت پہلو کا تجربہ کیا۔ اپنی پریزنٹیشن میں انہوں نے بنیادی طور پر تیونس پولیس کے ساتھ قانونی میل جول کو بیان کیا۔ جن کے مطابق، یہ قانونی میل جول LGBTI افراد پر تشدد کے خلاف کوئی تحفظ پیش نہیں کرتا اور حتی اب بھی اخلاقی قوانین کا استعمال کرتے ہوئے ایسے افراد کو بلا سوچے سمجھے گرفتار کیا جا رہا ہے جن پر جنس پسند ہونے کا قیاس ہو۔ قید میں رہتے ہوئے قیدیوں کو مقعد کی جانچ سے مشروط کیا جاتا ہے، اس جانچ کی درجہ بندی بین الاقوامی سطح پر پرُتشدد اقدام کے طور پرکی جاتی ہے، جس کا مقصد ہم جنس پسندی ثابت کرنا ہے جو ایک گمراہ کن قیاس ہے۔

“ان چاروں کی آپ بیتیوں کے ساتھ، کارکنوں نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا ہے کہ اگرانھیں ہر نئے روز حکومت، معاشرے نیز اکثر وبیشتر اوقات ان کے اپنے خاندانوں سے چھپ کر رہنا پڑے تو، بہت سے ممالک میں ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد کے لئے کس طرح کی زندگی کا تصور کیا جا سکتا ہے۔” یہ ہینی اینجلز کا مشاہدہ، جنھوں نے LSVD Bundesvorstand کی طرف سے تقریب میں شرکت کی.

*یہ فرد کا اصل نام نہیں بلکہ عرف ہے۔

Scroll Up