Logo des Projekts Fluchtgrund Queer: Queer Refugees Deutschland

تشدد اورغنڈہ گردی کے خلاف بطور ایک کوئیر پناہ گزین کے آپ کیا کچھ کر سکتے ہیں؟

اپنی ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر* شناخت کی وجہ سے جارحیت کا شکار ہونے والے کوئیر پناہ گزین اکثر و بیشتر نمایاں طور پر ڈپریشن، تناؤ اور بے اطمینان زندگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسائلم مراکز میں موجود کوئیر پناہ گزینوں کو اس رجحان کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ "اسائلم سینٹروں میں پناہ گزینوں کے تحفظ کے کم از کم معیارات” کے مطابق جرمنی کے اسائلم سینٹروں میں کوئیر پناہ گزینوں کو خاص طور پر ایک کمزور طبقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قصور واروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔

الزامات – لیکن کس کے خلاف؟

اپنی ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر* شناخت کی وجہ سے جارحیت کا شکار ہونے والے کوئیر پناہ گزین اکثر و بیشتر نمایاں طور پر ڈپریشن، تناؤ اور بے اطمینان زندگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسائلم مراکز میں موجود کوئیر پناہ گزینوں کو اس رجحان کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ "اسائلم سینٹروں میں پناہ گزینوں کے تحفظ کے کم از کم معیارات” کے مطابق جرمنی کے اسائلم سینٹروں میں کوئیر پناہ گزینوں کو خاص طور پر ایک کمزور طبقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قصور واروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔

الزامات – لیکن کس کے خلاف؟

ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر* پر جارحیت کا اطلاق تقریباً کسی بھی مجرمانہ کاروائی پر ہو سکتا ہے۔ اس میں یہ کچھ شامل ہوسکتا ہے:

  • توہین کرنا
  • تشدد آمیز اقدامات کرنا
  • دھمکیاں دینا
  • افشائے راز کی دھمکی دینا
  • جنسی جبر
  • ہتک عزت/ بہتان لگانا
  • املاک کو نقصان پہنچانا

الزامات لگانے (مقدمہ دائر کرنے) کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟

ہر کسی کو مجرمانہ الزامات لگانے کا حق حاصل ہے۔ اس کے نتیجے میں فوجداری (مجرمانہ) مقدمہ چلایا جائے گا، جو سزا پر منتج ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں آپ ایذا پہنچنے اور تکلیف سہنے کے لیے معاوضہ لینے کے حقدار بھی ہو سکتے ہیں۔

ہر رپورٹ کو شماریاتی طور پر محفوظ (ریکارڈ) کیا جاتا ہے۔ اس سے ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر* افراد کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے ضروری سیاسی دباؤ میسر آتا ہے، کیونکہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ کتنا سنگین ہے۔ رپورٹ بناتے وقت ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر* پر جارحیت کی طرف توجہ مبذول رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس (اقدام) کے لیے قصورواروں کو زیادہ سخت سزا دی جا سکتی ہے۔

مشاورت کا طریقہ کار کیا ہے؟

پولیس کو اطلاع کرنے سے پہلے آپ کو مشورہ لینا چاہیے۔ آپ مقامی طور پر، کسی ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر* تنظیم سے، بذریعہ ٹیلی فون یا آن لائن مشورہ حاصل کر سکتے ہیں (مثلاً https://www.queer-refugees.de/anlaufstellen/ کو ملاحظہ فرمائیں)۔ بہت سی تنظیمیں مفت و خفیہ مشاورت کی پیش کش کرتی ہیں۔ مشاورتی مراکز پولیس یا حکام کو ذاتی معلومات نہیں دیتے ہیں۔ درخواست کرنے پر، مشاورتی مراکز گمنام طور پرمشورہ حاصل کرنے کی سہولت کی پیش کش بھی کرتے ہیں۔

کیا میں مجبور ہوں کہ کونسلنگ کے بعد الزامات (مقدمہ دائر کرنا) لگاؤں؟

نہیں، قطع نظر اس کے کہ آپ مقدمہ دائر کرنا چاہیں یا نہیں، آپ کسی بھی کونسلنگ سنٹر میں مشاورت حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ مشیروں (مشورہ دینے والوں) کے ساتھ مل کر اس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ آیا الزامات لگانا آپ کے لیے مفید اور مددگار ثابت ہوگا یا نہیں، تاہم حتمی فیصلہ کرنا یقیناً آپ پر منحصر ہے۔ زیادہ تر وفاقی ریاستوں کے پاس ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر*  سے متعلقہ مسائل کے لیے، اب خصوصی طور پر تربیت یافتہ پولیس رابطے موجود ہیں۔ آپ 100% Mensch ویب سائٹ پر ان سے رابطے کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔

https://100mensch.de/zeig-sie-an/

کیا آپ یا آپ کا کوئی قریبی ایل۔ جی۔ بی۔ ٹی۔ آئی کوئیر* جارحیت، امتیازی رویے یا تشدد کا شکار ہو رہا ہے؟ آپ ایسے واقعات کی اطلاع دے سکتے ہیں اور مشاورت حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر صورتحال انتہائی خطرناک ہو، تو ہم آپ کو فوری طور پر پولیس کو کال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

فون نمبر 110

وفاقی ایجنسی برائے انسدادِ امتیازی سلوک

یہاں آپ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے موضوع پر معلومات کا حصول کر سکتے ہیں، مقدمات کی اطلاع دے سکتے ہیں نیز قانونی مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔