Projekt Queer Refugees Deutschland

اسائلم کے نظام سے متعلق سوالات کے جواب کیلئے نئی وضاحتی ویڈیوز

12. اپریل 2021

اب تک، ان میں سے چار وضاحتی ویڈیوز پہلے ہی تیار کی جا چکی ہیں۔ یہ عربی، جرمن، انگریزی اور فارسی میں دستیاب ہیں۔ Rosa Strippe کے عملے اور/یا Senlima، جو کہ  Bochum میں LGBTI پناہ گزینوں و مہاجریں کا ایک پروگرام ہے، کی نمائندگی کرنے والے زائرین نے وائس اوور فنکاروں کا کردار ادا کیا ہے۔ “ہمارا ہدف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عملی طور پر تمام مہاجرین پناہ گزینوں کو اسائلم کے عمل کے دوران انکے تمام تر حقوق پر مبنی مکمل معلومات تک آسان رسائی حاصل ہو۔ اسی لیے ہماری ویڈیوز نہ صرف پراجیکٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، بلکہ نمونے کے طور پر یو ٹیوب پر بھی قابل رسائی ہیں۔” Queer Refugees Deutschland کى لِلتھ رضا نے وضاحت کی۔ ٹیم LSVD پراجیکٹ ویب سائٹ پر خصوصی طور پر اضافی زبانوں فرانسیسی، روسی، ہسپانوی، ترکی اور اردو میں وضاحتی ویڈیوز فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید معلومات کیلئے لنکس:

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe und LSVD

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe and LSVD

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe وLSVD

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe و LSVD

ججوں اور وکلاء کے ساتھ چارسرگرم "ہم جنس پسند پناہ گزینِ جرمنی” کا مباحثہ

11. اپریل 2021

پیٹرک ڈور (LSVD Bundesvorstand) اور فلپ براؤن (سابق ILGA-شریک سیکرٹری جنرل) نے تقریب کا تعارف کرایا اور 41 منسلکہ ججوں، وکلاء اور BAMF کے عملے کے ارکان کے ساتھ متعدد قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا، جس نے ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی درخواست دہندگان کو بھیجے گئے منفی نوٹیفیکشن کے خلاف عدالت کی کارروائی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ چار سرگرم ہم جنس پسند ارکان، جو سب کے سب جرمنی میں مہاجرین کے وسیع نیٹ ورک LSVD پراجیکٹ Queer Refugees Deutschland کے ارکان ہیں، نے رپورٹوں کے ہمراہ اپنے آبائی ممالک اور اسائلم کے عمل کے دوران ہونے والے تجربات سے متعلق قانونی مباحثہ کیا:

اس تناظر میں، مصر سے احمد خالد* نے اپنی سماعت کے دوران نہایت تفصیل کے ساتھ ان مسائل کو بیان کیا جس کا اسے سامنا کرنا پڑا، خاص طور پرانتہائی ھوموفوبک(ہم جنس پسندوں سے انتہائی نفرت رکھنے والے) ایک ماہر لسانیات کے ساتھ۔ انہوں نے LGBTI کمیونٹی کے ساتھ مصر کی حکومت کی منظم ایذا رسانی کا بھی ذکر کیا۔ بظاہر، ستمبر 2017ء میں لبنانی بینڈ مشروع‘لیلیٰ کے کنسرٹ کے دوران اسی جگہ پر ایک اور گھمبیر صورتحال کا بھی مشاہدہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت ہم جنس پسند کمیونٹی کے خلاف منظم منصوبے بنا رہی ہے۔

میری پیٹروسیان نے اپنے آبائی ملک میں ہم جنس پسندوں سے شدت سے سرائیت شدہ ھوموفوبک رویوں کے بارے میں بات کی۔ جس کے نتیجے میں ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد مبینہ طور پر کسی بھی تحفظ کے بغیر وسیع تر ھوموفوبک تشدد کی زد میں ہیں۔ اسی طرح، قانون نافذ کرنے والے بھی عموماً ھومو فوبک ہیں، لہذا انھیں باقاعدہ طور پر کوئی تحفظ فراہم نہیں ہوتا۔ اس کے تجربے کے مطابق، BAMF دراصل ایک نسبتا چھوٹے ملک میں ان سماجی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا، جہاں ہر کوئی ہر کسی کو جانتا ہے اور جہاں چھپ کر جیٓنا عملی طور پر ناممکن ہے۔

ایران سے پامير جيحان* نے ایران میں ہم جنس پسند افراد پر ایذا رسانی کو بیان کیا، جہاں مردوں کے درمیان جنسی ملاپ اب بھی سزائے موت کا موجب بن سکتا ہے۔ نہ صرف متعدد ٹرانسجینڈر افراد جو کے نہیں چاہتے تھے کہ انھیں آپریشن سے مشروط سرجری کروانا پڑی ہے بلکہ ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد بھی ہیں کہ جنھیں زبردستی سرجری کروانا پڑی ہے اورانھیں اس طرح کی سرجری سے مسخ کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے وہ اور ان کے ترکی شوہرکو آگے چل کر جرمنی میں بھی شدید مسائل سہنا پڑے کیونکہ وہ ایک شادی شدہ ہم جنس پسند جوڑے کے طور پر قبول کیئے جائیں اور اس کی وجہ سے وہ تحفظ کے حقدار ہیں۔

دوسری طرف، LGBTI کے کارکن باكوس ماجري نے اسائلم کے عمل کے مثبت پہلو کا تجربہ کیا۔ اپنی پریزنٹیشن میں انہوں نے بنیادی طور پر تیونس پولیس کے ساتھ قانونی میل جول کو بیان کیا۔ جن کے مطابق، یہ قانونی میل جول LGBTI افراد پر تشدد کے خلاف کوئی تحفظ پیش نہیں کرتا اور حتی اب بھی اخلاقی قوانین کا استعمال کرتے ہوئے ایسے افراد کو بلا سوچے سمجھے گرفتار کیا جا رہا ہے جن پر جنس پسند ہونے کا قیاس ہو۔ قید میں رہتے ہوئے قیدیوں کو مقعد کی جانچ سے مشروط کیا جاتا ہے، اس جانچ کی درجہ بندی بین الاقوامی سطح پر پرُتشدد اقدام کے طور پرکی جاتی ہے، جس کا مقصد ہم جنس پسندی ثابت کرنا ہے جو ایک گمراہ کن قیاس ہے۔

“ان چاروں کی آپ بیتیوں کے ساتھ، کارکنوں نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا ہے کہ اگرانھیں ہر نئے روز حکومت، معاشرے نیز اکثر وبیشتر اوقات ان کے اپنے خاندانوں سے چھپ کر رہنا پڑے تو، بہت سے ممالک میں ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد کے لئے کس طرح کی زندگی کا تصور کیا جا سکتا ہے۔” یہ ہینی اینجلز کا مشاہدہ، جنھوں نے LSVD Bundesvorstand کی طرف سے تقریب میں شرکت کی.

*یہ فرد کا اصل نام نہیں بلکہ عرف ہے۔

ایل جی بی ٹی آئی مہاجرین کے خلاف پناہ گاہوں میں مخاصمت و تشدد: جرمن ریاستوں کے تحفظ کے تصور کی تحقیق بڑے پیمانے پر کوتاہی کی نشاندہی کرتی ہے

26. فروری 2021

ریاست سیکسنی کے تحفظ کا تصور بالخصوص سائنسی تجزیات کے مطابق ان معیارت کے صرف 5% پر ناموافق طور پر پورا اترتا ہے، جبکہ ریاست بریمن کے تحفظ کا تصور ان معیارات کے نصف سے زائد کو اپنائے ہوئے ہے۔ تاہم، بہتر تحفظ کی فوری ضرورت ہے: ان رہائشی جگہوں پر، ایل جی بی ٹی آئی پناہ گزین بار بار تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں اور، EU ڈائریکٹیو 2013/33/EU کے مطابق، اسی وجہ سے انہیں بالخصوص خطروں سے غیر محفوظ گروپ تصور کیا جاتا ہے جنہیں جرمنی میں معقول وجوہات کی بنا پر تحفظ کی ضرورت ہے۔  ٹرابرٹ اور ڈور کے مطابق – قائم کردہ حفاظتی اقدامات کی کمی کا یہ مطلب بھی ہے – کہ جرمنی اس فیلڈ میں اپنے یورپی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔ حفاظتی اقدامات کی عدم دسیتابی کا اسٹیک ہولڈز پر گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔ مہاجرین کی پناہ گاہوں کے پُر خوف خطے میں، وہ اپنی ضروریات کے بارے میں  بمشکل ہی بات کرپاتے ہیں۔  ایک ضابطے کے طور پر، غیر معمولی جنسی وضع کے حامل ہونے کے طور پر پہچانے جانے کا خوف انتہائی ہیجان زدہ اور انکے آبائی ممالک میں حکومت اور سوسائٹی کے ساتھ انکے سابقہ تجربات انتہائی خوفزدہ کر دینے والے ہیں۔

دونوں مصنفین نے وضاحت کی ہے کہ ضروری اعتماد بحال کرنے والے اقدامات میں ناکامی، پناہ گزینوں کی رہائشی جگہوں پر ناصرف انکے مؤثر تحفظ میں مزاحم ہے، بلکہ یہ اسائلم کارروائیوں کے دوران گھر میں ان پر کی جانے والی ایذا رسانی کو سامنے لانے سے بھی باز رکھتی ہے۔ "اس کے نتیجے میں، یہ تعمیل طلب تقاضا ہے کہ ریاستیں اپنے تحفظ کے تصورات میں جنسی وضع کے حامل پناہ گزینوں کے تحفظ کو آشکارہ طور پر یقینی بنائیں”، یہ پیٹرک ڈور کا کہنا ہے، جو اکتوبر 2020ء سے LSVD بورڈ کا رکن ہے۔

خواجہ سرا پناہ گزینوں کے لیے خصوصی نئی معلومات

26. دسمبر 2020

حالیہ برسوں میں، LGBTI پناہ گزینوں کا مسئلہ نمایاں طور پر اجاگر ہوا اور اسے اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، مشاورتی مواد تشکیل دینے میں خواجہ سراؤں کی مخصوص ضروریات پر مشاورت کرنے کے لیے کم سے کم غور کیا گیا ہے۔ نتیجے کے طور پر،کولون کے LGBTI مشاورتی دفترrubicon اور ٹرانس ایسوسی ایشن Netzwerk Geschlechtliche Vielfalt Trans* NRW نے ایک ہدایت نامہ تیار کیا ہے جس کا ہدف بالخصوص خواجہ سرا پناہ گزین ہیں۔ یہ ہدایت نامہ اصطلاح کی وضاحت کرتا ہے، جرمنی میں منتقلی کیلئےاٹھائے جانے والے اقدامات پر معلومات فراہم کرتا ہے اور خواجہ سرا تنظیموں و کمیونٹی کے لئے مددگار روابط کی فہرست مرتب کرتا ہے۔ LSVD منصوبے Queer Refugees Deutschland نے نقل کو حسب حال تیار نیز ترجمہ کیا ہے، لہذا یہ مواد اب انکی ویب سائٹ پر ٹرانس+ سیکشن کے ذیل میں نو زبانوں میں دسیتاب ہے۔

اسائلم کے قابلِ اعتماد لائحہ عمل نیز رہائشی جگہوں کی معلومات کے علاوہ، بہت سے خواجہ سراؤں کو ان کی جنسی وضع کے مختلف ہونے سے متعلقہ طبی خدمات درکار ہیں۔ تاہم، جبکہ اسائلم کی کارروائیاں جاری ہیں، انہیں طبی خدمات تک صرف محدود رسائی حاصل ہوتی ہے؛ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن طبی خدمات کی انہیں ضرورت ہے وہ اسائلم کی وجہ سے مسدود ہوتی ہیں۔ Schwulenberatung Berlin کی جانب سے حالیہ شائع کردہ ماہر تشخیص Zugang zu trans*spezifischen medizinischen Leistungen für Personen im Asylverfahren کا مقصد قانونی نقطہ نظر سے خواجہ سراؤں کو ملنے والی طبی خدمات کا استحقاق ہے۔ مصنفین ڈاکٹر Lena Kreck اور Maya Markwald نے قانونی جواز پیش کیے ہیں کہ آیا کیا وجہ ہے کہ جب اسائلم زیرِ عمل ہو تو خواجہ سراؤں کو اپنی مختلف جنسی وضع کے باعث پہلے سے ہی طبی خدمات تک مکمل رسائی کا حق حاصل ہے۔

Scroll Up