Projekt Queer Refugees Deutschland

ECJ نے قانون بنایا ہے کہ فالو اپ پناہ گزینی کی درخواستیں دائر کرنے کے لیے بے دخلی کی مدتیں غیر قانونی ہیں

8. اکتوبر 2021

نتیجے کے طور پر، ECJ نے اس عمل کی تصدیق کی ہے، جسے جرمنی میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے، جس کے مطابق ابتدائی درخواست میں مجموعی قصور واری کے نتیجے میں پیش نہ کیے گئے حالات کو، بعد کی درخواستوں میں زیر غور نہیں لایا جا سکتا ہے۔  تاہم پھر بھی، عدالت نے مابعد پناہ گزینی کی درخواستیں جمع کرانے کے لیے اخراجی مدتوں کے استعمال کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ اس کے مطابق، EU رکن ریاستوں کو یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہیے کہ پناہ گزینی کے درخواست دہندگان ایک مخصوص مقررہ مدت تک نئی معلومات پیش کریں جو مقررہ مدت اس معلومات کے حاصل ہونے کے وقت سے فعال ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ، پناہ گزینی کی ایجنسیوں اور عدالتوں کو اب ہم جنس پسند پناہ کے متلاشیوں کی مابعد درخواستوں کو محض اس بنیاد پر مسترد کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے کہ یہ درخواستیں ایک مخصوص مقررہ مدت تک پیش کی جانی تھیں۔ اس کے سبب، تین ماہ کی مدت جو جرمنی میں § 51 جرمن ایڈمنسٹریٹو پروسیڈنگز ایکٹ (VwVfG) کے مطابق نافذ رہی ہے اب مزید مابعد پناہ گزینی کی  درخواستوں پر قابل اطلاق نہیں ہوگی۔

آسٹریائی کورٹ آف ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ECJ کو استفسار بھیجنا ایک عراقی پناہ گزین کی مابعد پناہ گزینی کی درخواست کی بنیاد پر تھا۔ جولائی 2015 میں، اس نے اپنی پہلی پناہ کی درخواست دائر کی تھی۔ اس کارروائی میں اس نے خود کو ہم جنس پسند مرد ظاہر نہیں کیا تھا۔ . نتیجتہً، جنوری 2018 میں اس کی پناہ گزینی کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ بعدازاں، اس نے دسمبر 2018 میں مابعد پناہ گزینی کی درخواست دائر کی۔ اپنی نئی پناہ گزینی کی درخواست میں، اس نے انکشاف کیا کہ وہ ہم جنس پسند مرد ہے اور اس لیے اسے عراق میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس نے بیان کیا کہ جون 2018 تک، وہ اس حقیقت سے آگاہ ہو گئے تھے کہ وہ ایذا رسائی کے خوف کے بغیر آسٹریا میں اپنی ہم جنس پسندی کو ظاہر کر سکتا ہے۔ تاہم، جنوری 2019 میں، آسٹریائی وفاقی ایجنسی برائے فارن افیئرز اور اسائلم (Bundesamt für Fremdenwesen und Asyl/BFA) نے اس کی مابعد کی درخواست مسترد کر دی، اس کی ناقابل اجازت کے طور پر درجہ بندی کی تھی۔ اس کے نتیجے میں، عراقی شہری نے آسٹریائی فیڈرل کورٹ آف ایڈمنسٹریشن (Bundesverwaltungsgericht/BVwG) میں شکایت درج کرائی، جسے متذکرہ بالا نے ہر پہلو سے مسترد کر دیا۔ بعد ازاں، درخواست گزار نے آسٹریائی ہائی کورٹ آف ایڈمنسٹریشن (Verwaltungsgerichtshog/VwGH) میں اپیل دائر کی اور دلیل دی کہ اس طرح نئی حقیقت اس کے ہم جنس پسندی کے میلان میں موروثی طور پر نہیں تھی، بلکہ اب اسے بیان کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ اس کے نتیجے میں، VwGH نے کارروائی کو معطل کرنے اور ECJ سے یہ استفسار کرنے کا فیصلہ کیا کہ مابعد پناہ گزینی کی درخواست کی طرح قابل اجازت ہونے کے لئے کن شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔

9 ستمبر 2021 کے اپنے فیصلے میں ECJ ہم جنس پسند پناہ گزینوں کے حقوق کو تقویت دیتی ہے جنہوں نے ابتدائی کارروائی کے دوران خود سے متعلق انکشاف نہیں کیا اگرچہ وہ اپنے جنسی رجحان یا صنفی شناخت سے پہلے ہی واقف تھے۔ اگر ان کی پناہ گزینی کی کارروائیوں کو بالآخر مسترد کر کے ختم کر دیا گیا ہے، اب انہیں، ECJ کے فیصلے کے مطابق، ان کو مسترد کرنے کے مہینوں اور سالوں بعد بھی، اپنی مابعد کارروائی کو پراسیس کرانے کا موقع حاصل ہے۔ اس کے لیے اول شرط یہ ہے کہ پناہ گزین، ابتدائی کارروائی میں، وہ اپنی پرواز کی وجوہات کے طور پر اپنی جنسی یا صنفی شناخت پیش کرنے سے قاصر تھے جن اسباب کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں، ہم جنس پسند پناہ گزین جنہوں نے خوف یا شرم کی وجہ سے ابتدائی کارروائی میں ان حقائق کو ظاہر نہیں کیا تھا انہیں قطعی طور پر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مابعد کارروائی کے لیے درخواست میں، وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس طرح کے خوف اور شرم نے کس حد تک ان کی پناہ کی متلاشی سرگرمیوں کے حقیقی اسباب پیش کرنے کو ناممکن بنا دیا ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جرمنی میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی بڑی اکثریت ان ممالک سے آتی ہے جہاں کوئیر طرز زندگی کو بڑے پیمانے پر جرائم، گناہ، بیماریاں یا شرمناک افعال سمجھا جاتا ہے، یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کوئیر پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد حتٰی کہ ابتدائی کارروائی میں اپنا جنسی رجحان یا صنفی شناخت پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

LGBTI Asylmagazin پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ایک اور شمارہ کی تشہیر کرتا ہے۔

21. ستمبر 2021

اس مقصد کے لیے، شمارہ 7-8/2021 پہلا نہیں ہے جس میں Asylmagazin LGBTI اسائلم کی درخواستوں کے موضوع کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ جہاں تک کہ شمارہ 3/2013 اور شمارہ 12/2013 کا تعلق ہے، میگزین نے نورا مارکارڈ کے دو مضامین شائع کیے ہیں جو "صوابدیدی ضرورت” کے کیس لاء سے وابستہ ہے۔ شمارہ 10-11/2019 پہلا ایڈیشن تھا جس میں الوا ٹربرٹ اور پیٹرک ڈور کی لکھی گئی دو رپورٹیں "تشدد سے تحفظ، طریقہ کار کی ضمانتیں نیز وجوہات جو LGBTI افراد کو ان کے آبائی ممالک سے بھاگنے پر مجبور کرتی ہیں” پر مرکوز تھیں۔ آخر میں، 3/2020 کے شمارے میں، فلپ برائون، پیٹرک ڈور اور الوا ٹربرٹ نے جرمن آئینی عدالت کے دو فیصلوں پر تبصرہ کیا۔ ایک فیصلے میں، جرمن آئینی عدالت نے اسائلم کے بعد کی کارروائیوں میں LBGTI مہاجرین کے حقوق کو بڑھا دیا تھا۔ دوسرے فیصلے میں، اس نے "صوابدیدی تقاضے” کی ناپائیداری کی تصدیق کی تھی اور واضح کیا تھا کہ اسائلم کے متلاشی ایبلنگی افراد کے معاملات میں "صوابدیدی ضرورت” کا اطلاق بھی غیر قانونی ہے۔

 

Asylmagazin میں متذکرہ بالا آرٹیکل (جرمن زبان میں) کی فہرست ذیل میں دی گئی ہے:

Petra Sußner (2021): Das reicht (noch) nicht –  Wo ist das Problem mit Heteronormativität im Asylrecht?, Asylmagazin 7-8/2021, 248-256. (ابھی تک آن لائن قابل رسائی نہیں)

Patrick Dörr, Alva Träbert and Philipp Braun (2021): LSBTI*-Asylanträge und das widerspenstige »Diskretionsgebot« – Wie BAMF und Gerichte weiterhin höchstrichterliche Vorgaben unterlaufen, Asylmagazin 7-8/2021, 257-268. (ابھی تک آن لائن قابل رسائی نہیں)

Philipp Braun, Patrick Dörr and Alva Träbert (2021): „Durch das Zwangsouting habe ich meine Familie verloren.“ – Outings queerer Asylsuchender durch Vertrauensanwält*innen des Auswärtigen Amtes, Asylmagazin 7-8/2021, 269-275. (ابھی تک آن لائن قابل رسائی نہیں)

Philipp Braun, Patrick Dörr und Alva Träbert (2020): Anmerkung: BVerfG: Vorgaben zur Prüfung der Verfolgung auf- grund sexueller Orientierung, Asylmagazin 3/2020, 81-83.

Alva Träbert und Patrick Dörr (2019): LSBTI*-Geflüchtete und Gewaltschutz, Asylmagazin 10-11/2019, 344-351.

Patrick Dörr und Alva Träbert (2019): LSBTI*-Geflüchtete im Asylverfahren, Asylmagazin 10-11/2019, 352-359.

Nora Markard (2013): EuGH zur sexuellen Orientierung als Fluchtgrund. Zur Entscheidung „X, Y und Z gegen  Minister voor Immigratie en Asiel“ vom 7.11.2013, Asylmagazin 12/2013, 402–408.

Nora Markard (2013): Sexuelle Orientierung als Fluchtgrund – Das Ende der „Diskretion“. Aktuelle Entwicklungen beim Flüchtlingsschutz aufgrund der sexuellen Orientierung, Asylmagazin 3/2013, 74–84.

اسائلم کے نظام سے متعلق سوالات کے جواب کیلئے نئی وضاحتی ویڈیوز

12. اپریل 2021

اب تک، ان میں سے چار وضاحتی ویڈیوز پہلے ہی تیار کی جا چکی ہیں۔ یہ عربی، جرمن، انگریزی اور فارسی میں دستیاب ہیں۔ Rosa Strippe کے عملے اور/یا Senlima، جو کہ  Bochum میں LGBTI پناہ گزینوں و مہاجریں کا ایک پروگرام ہے، کی نمائندگی کرنے والے زائرین نے وائس اوور فنکاروں کا کردار ادا کیا ہے۔ “ہمارا ہدف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عملی طور پر تمام مہاجرین پناہ گزینوں کو اسائلم کے عمل کے دوران انکے تمام تر حقوق پر مبنی مکمل معلومات تک آسان رسائی حاصل ہو۔ اسی لیے ہماری ویڈیوز نہ صرف پراجیکٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، بلکہ نمونے کے طور پر یو ٹیوب پر بھی قابل رسائی ہیں۔” Queer Refugees Deutschland کى لِلتھ رضا نے وضاحت کی۔ ٹیم LSVD پراجیکٹ ویب سائٹ پر خصوصی طور پر اضافی زبانوں فرانسیسی، روسی، ہسپانوی، ترکی اور اردو میں وضاحتی ویڈیوز فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید معلومات کیلئے لنکس:

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe und LSVD

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe and LSVD

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe وLSVD

YouTube

Mit dem Laden des Videos akzeptieren Sie die Datenschutzerklärung von YouTube.
Mehr erfahren

Video laden

Rosa Strippe و LSVD

ججوں اور وکلاء کے ساتھ چارسرگرم "ہم جنس پسند پناہ گزینِ جرمنی” کا مباحثہ

11. اپریل 2021

پیٹرک ڈور (LSVD Bundesvorstand) اور فلپ براؤن (سابق ILGA-شریک سیکرٹری جنرل) نے تقریب کا تعارف کرایا اور 41 منسلکہ ججوں، وکلاء اور BAMF کے عملے کے ارکان کے ساتھ متعدد قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا، جس نے ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی درخواست دہندگان کو بھیجے گئے منفی نوٹیفیکشن کے خلاف عدالت کی کارروائی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ چار سرگرم ہم جنس پسند ارکان، جو سب کے سب جرمنی میں مہاجرین کے وسیع نیٹ ورک LSVD پراجیکٹ Queer Refugees Deutschland کے ارکان ہیں، نے رپورٹوں کے ہمراہ اپنے آبائی ممالک اور اسائلم کے عمل کے دوران ہونے والے تجربات سے متعلق قانونی مباحثہ کیا:

اس تناظر میں، مصر سے احمد خالد* نے اپنی سماعت کے دوران نہایت تفصیل کے ساتھ ان مسائل کو بیان کیا جس کا اسے سامنا کرنا پڑا، خاص طور پرانتہائی ھوموفوبک(ہم جنس پسندوں سے انتہائی نفرت رکھنے والے) ایک ماہر لسانیات کے ساتھ۔ انہوں نے LGBTI کمیونٹی کے ساتھ مصر کی حکومت کی منظم ایذا رسانی کا بھی ذکر کیا۔ بظاہر، ستمبر 2017ء میں لبنانی بینڈ مشروع‘لیلیٰ کے کنسرٹ کے دوران اسی جگہ پر ایک اور گھمبیر صورتحال کا بھی مشاہدہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت ہم جنس پسند کمیونٹی کے خلاف منظم منصوبے بنا رہی ہے۔

میری پیٹروسیان نے اپنے آبائی ملک میں ہم جنس پسندوں سے شدت سے سرائیت شدہ ھوموفوبک رویوں کے بارے میں بات کی۔ جس کے نتیجے میں ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد مبینہ طور پر کسی بھی تحفظ کے بغیر وسیع تر ھوموفوبک تشدد کی زد میں ہیں۔ اسی طرح، قانون نافذ کرنے والے بھی عموماً ھومو فوبک ہیں، لہذا انھیں باقاعدہ طور پر کوئی تحفظ فراہم نہیں ہوتا۔ اس کے تجربے کے مطابق، BAMF دراصل ایک نسبتا چھوٹے ملک میں ان سماجی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا، جہاں ہر کوئی ہر کسی کو جانتا ہے اور جہاں چھپ کر جیٓنا عملی طور پر ناممکن ہے۔

ایران سے پامير جيحان* نے ایران میں ہم جنس پسند افراد پر ایذا رسانی کو بیان کیا، جہاں مردوں کے درمیان جنسی ملاپ اب بھی سزائے موت کا موجب بن سکتا ہے۔ نہ صرف متعدد ٹرانسجینڈر افراد جو کے نہیں چاہتے تھے کہ انھیں آپریشن سے مشروط سرجری کروانا پڑی ہے بلکہ ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد بھی ہیں کہ جنھیں زبردستی سرجری کروانا پڑی ہے اورانھیں اس طرح کی سرجری سے مسخ کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے وہ اور ان کے ترکی شوہرکو آگے چل کر جرمنی میں بھی شدید مسائل سہنا پڑے کیونکہ وہ ایک شادی شدہ ہم جنس پسند جوڑے کے طور پر قبول کیئے جائیں اور اس کی وجہ سے وہ تحفظ کے حقدار ہیں۔

دوسری طرف، LGBTI کے کارکن باكوس ماجري نے اسائلم کے عمل کے مثبت پہلو کا تجربہ کیا۔ اپنی پریزنٹیشن میں انہوں نے بنیادی طور پر تیونس پولیس کے ساتھ قانونی میل جول کو بیان کیا۔ جن کے مطابق، یہ قانونی میل جول LGBTI افراد پر تشدد کے خلاف کوئی تحفظ پیش نہیں کرتا اور حتی اب بھی اخلاقی قوانین کا استعمال کرتے ہوئے ایسے افراد کو بلا سوچے سمجھے گرفتار کیا جا رہا ہے جن پر جنس پسند ہونے کا قیاس ہو۔ قید میں رہتے ہوئے قیدیوں کو مقعد کی جانچ سے مشروط کیا جاتا ہے، اس جانچ کی درجہ بندی بین الاقوامی سطح پر پرُتشدد اقدام کے طور پرکی جاتی ہے، جس کا مقصد ہم جنس پسندی ثابت کرنا ہے جو ایک گمراہ کن قیاس ہے۔

“ان چاروں کی آپ بیتیوں کے ساتھ، کارکنوں نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا ہے کہ اگرانھیں ہر نئے روز حکومت، معاشرے نیز اکثر وبیشتر اوقات ان کے اپنے خاندانوں سے چھپ کر رہنا پڑے تو، بہت سے ممالک میں ہم جنس پسند مردوں اور عورتوں اور ایبلنگی افراد کے لئے کس طرح کی زندگی کا تصور کیا جا سکتا ہے۔” یہ ہینی اینجلز کا مشاہدہ، جنھوں نے LSVD Bundesvorstand کی طرف سے تقریب میں شرکت کی.

*یہ فرد کا اصل نام نہیں بلکہ عرف ہے۔